بسم اللہ الرحمن الرحیم
مقدمہ
اختلاف، زندگی کی ایک ایسی ناقابلِ انکار حقیقت ہے جس سے راہِ فرار ممکن نہیں۔ اختلاف کا مطلب ہے :الگ رائے رکھنا، نظریاتی فرق رکھنا، جدا سوچنا۔ یہ انسان کی انفرادیت، شعور اور آزادیِ فکر کی علامت ہے۔ اگر سب انسان ایک ہی طرز پر سوچنے لگیں تو انسانی تہذیب و تمدن کا ارتقائی سفر رک جائے۔ یہی اختلاف ہے جو تحقیق کو جنم دیتا ہے، نئے نظریات کو پروان چڑھاتا ہے، اور سچائی تک رسائی کے نئے دروازے کھولتا ہے۔
مشہور فقیہ و محدث امام سفیان ثوریؒ (97-161 ہجری) کا ایک قول اس حوالے سے نہایت بصیرت افروز ہے : ’’مَا اخْتَلَفَ فِيهِ الْفُقَهَاءُ، فَلَا أَنْهَى أَحَدًا مِنْ إِخْوَانِي أَنْ يَأْخُذَ بِه‘‘ (الفقيه والمتفقه، خطيب بغدادی، جلد 2، ص 135)یعنی ’’جس مسئلہ میں فقہا کا اختلاف ہو چکا ہو، اس میں میں اپنے ساتھیوں کو اس بات سے منع نہیں کرتا کہ وہ دوسری رائے کو اختیار کریں۔‘‘
اسی طرح میں وہ اپنے شاگردوں کو یہ نصیحت کیا کرتے تھے : ’’إِذَا رَأَيْتَ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْعَمَلَ الَّذِي قَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ، وَأَنْتَ تَرَى غَيْرَهُ، فَلَا تَنْهَه‘‘ (الفقيه والمتفقه، خطيب بغدادی، جلد 2، ص 136)۔ یعنی’’جب تم کسی شخص کو ایسے عمل پر کاربند دیکھو جس میں اختلاف واقع ہو چکا ہو اور تمہاری رائے اس کے خلاف ہو، تو اُسے منع مت کرو۔‘‘
یہ اقوال اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اختلاف بذاتِ خود کوئی برائی نہیں۔ اختلاف اس وقت فساد بن جاتا ہے جب اس کے اظہار کا طریقہ غیر اخلاقی ہو— مثلاً الزام تراشی، نفرت، تعصب، اور طعن و تشنیع۔ ایسا رویہ نہ صرف دینی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ عقل و دانش کے بھی منافی ہے۔ اس کےبرعکس، اگر اختلاف کو نرمی، ادب، دلیل اور وسعتِ نظر کے ساتھ برتا جائے تو یہ عمل معاشرتی ڈیولپمنٹ، فکری ترقی اور سچائی کی تلاش میں مددگار بن جاتا ہے۔
علم کی دنیا میں جتنی بھی پیش رفت ہوئی ہے، وہ اسی فکری تنوع اور اختلافِ رائے کی بنیاد پر ممکن ہوئی۔ اختلاف ہمیں نئی جہات سکھاتا ہے، تعصبات کو توڑتا ہے اور حقیقت کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے بصیرت عطا کرتا ہے۔
زیرِ نظر کتاب’’حکمتِ اختلاف: ضرورت، اہمیت اور دائرہ کار‘‘دراصل مولانا وحیدالدین خاں صاحب کے ان مضامین، سوال و جواب اور اقتباسات کا مجموعہ ہے، جو انہوں نے ماہنامہ الرسالہ میں شائع کیے یا اپنے سفرناموں اور ڈائریوں میں قلم بند کیے۔ مولانا نے اس اہم اور نازک موضوع پر نہایت متوازن، دلائل سے بھرپور اور حقیقت پسندانہ انداز میں روشنی ڈالی ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ وہ اس کتاب کو اختلاف جیسے حساس موضوع کو صحیح زاویے سے سمجھنے،اور اس کے مثبت و تعمیری پہلو کو عام کرنے میں ایک مشعلِ راہ بنائے۔ آمین
ڈاکٹر فریدہ خانم (چیف ایڈیٹر)
مولانا فرہاد احمد (ایڈیٹر)
ڈاکٹر ثانی اثنین خان (ناشر)
