16مئی2011

حیدر آباد سے حبیب بھائی کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک عرصے سے میں نے ہر کام چھوڑدیا ہے اور صرف کتابوں کا مطالعہ کرتا ہوں۔ میں نے پایا کہ علما اور مفسرین کی رایوں کے درمیان بہت زیادہ تضادملتا ہے۔اس حالت میں صحیح رائے تک کیسے پہنچا جائے۔

میں نے کہا کہ تضاد ایک اضافی لفظ ہے۔ رایوں میں اختلاف یقیناً پایا جاتا ہے، لیکن اس کو تضاد کہنا درست نہیں۔ دوسری بات میں نے یہ کہی کہ مطالعے کا معیار یہ نہیں ہے کہ آپ ایک اتفاقی رائے تک پہنچ جائیں۔ اتفاقی رائے ایک خارجی لفظ ہے۔ مطالعے کا صحیح معیار یہ ہے کہ مطالعے کے ذریعے خود آپ کے اندر ذہنی ارتقا ہوتا ہے یا نہیں۔

 میں نے کہا کہ میری ملاقات بہت سے ایسے لوگوں سے ہوئی ہے جنہوں نے کتابوں کا بہت زیادہ مطالعہ کیا تھا۔ جب میں نے ان کا حاصلِ مطالعہ پوچھا تو وہ دوسروں پر تنقید کرنے لگے۔ میں نے کہا کہ میں آپ سے یہ نہیں پوچھ رہا ہوں۔ میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ وہ آپ کو وزڈم کی کوئی بات ملی۔ بار بار پوچھنے کے باوجود وہ کوئی ایک بھی وزڈم کی بات نہ بتاسکے۔ میں نے کہا کہ مطالعے کا مقصد دوسروں کی غلطیوں کو دریافت کرنا نہیں ہے، بلکہ خود اپنے لیے کوئی مثبت حقیقت کو دریافت کرنا ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion