23مئی 2008

مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب انصار اور مہاجرین کے درمیان اختلاف ظاہر ہوا، تو ایک صحابی، ابوعبیدہ نے انصار کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :تم لوگ سب سے پہلے خدا کےدین کی نصرت کرکےخدا اور اس کےرسول کے انصار بنے تھے (إِنَّكُمْ ‌أَوَّلُ ‌مَنْ ‌نَصَرَ)، اب تم دین میں اختلاف اورانتشار کی پہل کرنے والے نہ بنو۔ یہ سننا تھا کہ انصار اختلاف سے رک گئے (تاریخ الطبری، جلد3، صفحہ221)۔

یہ رول ہر زمانے میں مطلوب ہے ۔ اصل یہ ہےکہ عوام مخلص ہوتے ہوئے بھی جذبات کا شکار ہو جاتےہیں ۔ ایسی حالت میں خواص میں سےایک شخص کو کھڑا ہونا پڑتا ہے جو امرِ حق کی طرف ان کی رہنمائی کرے۔ مگر موجودہ زمانےکے علما نے یہ رول انجام نہیں دیا۔ بار بار ایسا ہواکہ عوام نےجذباتی تحریکیں اٹھائیں ، مگر خواص علما ایسےموقع پر خاموش رہے، غالباً اس ڈر سے کہ وہ عوام سے کٹ جائیں گے۔ خواص علما کے اِس رویے کی بنا پر موجودہ زمانے کے مسلمان کو صحیح رہنمائی نہ مل سکی۔مسجدکان پور(1913)، مسجد ایودھیا (1992)، قضیہ فلسطین (1948)، اور قضیہ کشمیر(1979) اِس کی چند مثالیں ہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion