14 مئی 1989

دھولیہ (مہاراشٹر) میں مارچ 1989 میں فرقہ وارانہ فساد ہوا۔دھولیہ کے دو آدمیوں نے بتایا کہ ہولی کے موقع پر ہندوؤں نے مسجد کی دیوار پر پانی پھینکا تھا۔ مگرجب دونوں فرقوں میں جھگڑا ہوگیا تو مسلمانوں نے معاملہ کو بھیانک بنانے کے لیے خود رات کے وقت مسجد کی دیواروں پررنگ ڈال کر اس کو رنگین کر دیا تاکہ دیکھنے والے سمجھیں کہ ہندوؤں نے مسجد کی دیوار پر ہولی کا رنگ ڈالا تھا۔

میں نے کہا کہ میں اپنی رپورٹ میں یہ بات لکھ دیتا ہوں ۔ مگر دھولیہ والوں نے سخت اختلاف کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہماری تمام رپورٹیں، تمام کاغذات اور مقدمہ کے بیانات، سب میں یہی بتایا گیا ہے کہ ہندوؤں نے رنگ پھینکا۔ اب اگر آپ لکھ دیں کہ ہندوؤں نے پانی پھینکا تھا اور مسلمانوں نے اپنی طرف سے رنگ ڈال دیا تو ہمارا کیس بگڑ جائےگا۔

میں نے کہا کہ ہندستانی مسلمانوں کا یہی مزاج ہے جس نے انھیں خدا کی مدد سے محروم کر رکھا ہے اور وہ مسلسل بربادی کی طرف چلے جا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ خدا کی مدد ہمیشہ سچ پر آتی ہے ۔ جھوٹ پر کبھی خدا کی مدد نہیں آتی، آپ لوگ جھوٹ پر خدا کی مدد اتارنا چاہتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ آج تک آپ کے اوپر نہیں اتری۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion