مشاہداتِ دنیا
ستمبر 1989ء کولیبیا کے لیے میرا ایک سفر ہوا۔اس سفر میں میں نے لیبیا پہنچ کر اپنی گھڑی میں مقامی وقت کے مطابق تبدیلی نہیں کی تھی۔ جب مجھے وقت معلوم کرنا ہوتا تو میں ایسا کرتا کہ اپنی گھڑی میں ساڑھے تین گھنٹہ کا فرق کر لیتاتھا۔ اس طرح مجھے مقامی وقت کا اندازہ ہو جاتا تھا۔ ہندوستان کے مقابلہ میں لیبیا کا وقت ساڑھے تین گھنٹہ پیچھے ہے۔ وقت کے آگے پیچھے ہونے کا مطلب کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسان نے اپنی سہولت کے لیے رات اور دن کی مدت کو 24 گھنٹے میں تقسیم کیا ہے۔ یہ مان لیا گیا ہے کہ ہر ملک میں دوپہر کا وقت 12 بجے کا ہو گا۔ اب چونکہ زمین کی محوری گردش کی بنا پر ’’دوپہر‘‘ کا لمحہ ہر ملک میں الگ الگ وقت پر آتا ہے، ہر ملک کا وقت الگ الگ ہو گیا ہے۔ مثلاً ہندوستان میں جس وقت دوپہر ہو گا، اس وقت لیبیا میں ابھی دوپہر کا وقت آنے میں تقریباً ساڑھے تین گھنٹہ باقی ہوں گے۔ ہر ملک دوپہر کے وقت کو 12 بجے کا وقت مان کر اپنی گھڑی کا آغاز کرتا ہے، اس لیے ہر ملک کا وقت نسبتی طور پر الگ الگ ہو جاتا ہے۔
وقت کا یہ فرق قدرت کا ایک سبق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ’’فرق‘‘ اس دنیا کی لازمی حقیقت ہے۔ اس دنیا میں ہمیں فرق کے باوجود مل کررہنا ہے۔ یہاں اختلاف کے باوجود اتحاد قائم کرنا ہے۔
