19دسمبر 2008
عباسی دورمیں فقہا نے احکامِ شریعت کی تدوین کی۔ اس وقت ان کے سامنے یہ مسئلہ پیش آیا کہ عبادت کے فارم کے بارے میں صحابہ کی رائیں اور اُن کی روایتوں میں اختلاف ہے۔ فقہا نے اِس معاملے کے حل کے لیے ترجیح (preferance)کا اصول اختیار کیا، یعنی کسی ایک کو راحج قرار دےکر دوسری رایوں کو چھوڑ دینا۔
ترجیح کا یہ اصول خالص قانونی معاملات میںدرست تھا، جن کا تعلق عدالت سےہوتا ہے ، نہ کہ عام انسان سے۔ مگر انھوں نے عبادت کے معاملے میں بھی ترجیح کے اصول کو اختیار کیا۔ اِس بنا پر مختلف فقہی اسکول بن گئے ۔ میرے نزدیک فقہا کا یہ مسلک درست نہیں۔ عبادت کےمعاملے میں فرق کو تنوع (diversity)اور توسع پر محمول کیا جائے گا ، جیساکہ حدیث میں آیا ہے :بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ(جامع بیان العلم و فضلہ، حدیث نمبر 1760)۔ یعنی، تم ان(صحابہ) میں سے جس کی بھی پیروی کرو، تم ہدایت پر رہوگے۔
