اعتدال کا مطلب
ایک روایت کافی مشہور ہے۔ یہ روایت صحاح ستہ میں موجود نہیں،البتہ وہ دوسری کتب حدیث میں پائی جاتی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:خَيْرُ الْأُمُورِ أَوْسَاطُهَا (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر7176)۔دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں:خیرُ الأمورِ أوسَطُہا (جامع الأصول، جلد، 10، صفحہ 130)۔ یعنی، معاملات میں بہتر طریقہ درمیانی طریقہ (middle path)ہے۔
اس روایت میں خیر الامور کا لفظ ہے ، لیکن اکثر لوگوں نے اس کی توسیع کرکے اس کو خیر الافکار کے معنی میں لے لیا ہے۔ مگر یہ درست نہیں۔ یہ روایت عملی معاملات کے لیے ہے، وہ فکری معاملات کے لیے نہیں ۔ مثلاً نفل نمازوں یا نفل روزوں کے بارے میں کوئی شخص مسئلہ پوچھے تو اس سے کہا جائے کہ تم درمیانی طریقہ یا اعتدال کا طریقہ اختیار کرو، نہ بہت کم نہ بہت زیادہ۔ اسی طرح انفاق کے معاملے میں کوئی شخص مسئلہ پوچھے تو اس سے بھی یہی کہا جائے گا کہ اعتدال کے ساتھ انفاق کرو۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے:وَلَا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُولَةً إِلَى عُنُقِکَ وَلَا تَبْسُطْہَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَحْسُورًا (17:29)۔یعنی، اور نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ لو اور نہ اس کو بالکل کھلا چھوڑ دو کہ تم ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جاؤ۔
مگر افکار کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ افکار کے معاملے میں یہ دیکھا جائے گا کہ قرآن و سنت کی روشنی میں کون سا فکر ی موقف صحیح ہے اور کون سا فکری موقف غلط۔ مثلا متطرفین (extremists) اور غیرمتطرفین کے درمیان کوئی بیچ کا راستہ یا مسلک اعتدال نہیں ہوتا۔ یہاں یہ بتانا پڑتا ہے کہ دونوں میں سےکون سا گروہ صحیح ہے اور کون سا گروہ غلط۔ فکری معاملے میں قرآن کا اصول یہ ہے کہ حق کے بعد جو چیز ہے وہ ضلالت ہے:فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ (10:32)۔
اصل یہ ہے کہ عملی معاملات میں اعتدال کا طریقہ حکمت کا طریقہ ہے۔ اس کے برعکس، فکری معاملات میں اعتدال کا طریقہ شبہ نفاق کی حیثیت رکھتا ہے۔ فکری معاملات میں وضوح (clarity)، اور یقین (conviction) مطلوب ہوتا ہے۔ اگر اعتدال کے طریقے کو فکر تک وسیع کیا جائے تو لوگوں کے ذہنوں میں یقین بھی ختم ہوجائے گا، اوروضوح بھی۔
