دسمبر 1992 میں شانتی یاترا کے تحت میں اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ شری رام پور (مہارشٹرا) میں پہنچا۔ لوگوں سے ملاقاتوں کے دوران شری رام پور کا ایک سبق آموز قصہ معلوم ہوا۔ یہاں ایک بزرگ کی قبر ہے۔ 6 دسمبر کے بعد کسی شریر آدمی نے رات کے وقت قبر کو توڑ ڈالا۔ اس قسم کا ایک واقعہ عام طور پر دو فرقوں میں کشیدگی اور پھر خونین فساد کا سبب بن جاتا ہے۔ مگر شری رام پور میں ایسا نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب یہ قصہ پیش آیا تو فوراً ہی بستی کے ہندو اور مسلمان وہاں پہنچے اور دونوں نے مل کر قبر کو پھر سے بنایا۔ اور پھر اس کے اوپر حسب قاعدہ چادر چڑھائی ۔ اس طرح انھوں نے فساد کے بم کو ڈیفیوز کر دیا۔ یہ واقعہ 17 دسمبر کو مجھے معلوم ہوا جب کہ میں شانتی یاترا کے تحت شری رام پور میں پہنچا تھا۔
اسی یاترا کے تحت 17 دسمبر کی شام کو ہم نِواسا پہنچے ۔ یہاں پدیاترا کے بعد حسب معمول جلسہ ہوا جس میں ہمارے ساتھیوں نے تقریریں کیں۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ زندگی میں کبھی کبھی اختلاف کا پیدا ہونا عین فطری ہے۔ ایسا ہمیشہ ہو گا۔ خواہ وہ ایک سماج ہو یا کوئی دوسرا سماج۔ پھر اس کا حل کیا ہے۔
میں نے کچھ واقعات بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے حل کے لیے میں آپ کو دو آسان نسخہ بتاتا ہوں۔ ایک یہ کہ— دوری کو دور کیجیے۔ یعنی ایک فرقہ اور دوسرے فرقہ کے لوگ آپس میں خوب ملیں۔ وہ باہمی دوری کو ختم کریں۔ اس کے بعد بہت سی غلط فہمیاں اپنے آپ ختم ہو جائیں گی۔
دوسرے یہ کہ جب جھگڑے یا اختلاف کی صورت پیدا ہو تو ایسے موقع پر آپ کا اصول ہونا چاہیے — ٹکراؤ نہیں، تدبیر۔ یعنی ایسے مواقع پر آپ ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کریں بلکہ تدبیر کا طریقہ اختیار کریں۔ آپ بم پر بم نہ ماریں بلکہ بم کو ڈیفیوز کر دیں۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ جھگڑے کو اس کے پہلے ہی مرحلہ میں ختم کر دیں گے۔ میری تقریر کے بعد کچھ ہندو نوجوان مجھ سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے کبھی اس طرح سوچا نہیں تھا۔ مگر آج سمجھ میں آیا کہ یہی اصل بات ہے اور ہمیں ایسا ہی کرنا چاہیے۔
