8 جون 1983
شیخ تاج الدین سبکی (وفات 1270ء) نے اپنی کتاب طبقات الشافعیہ الکبری میں لکھا ہے کہ امت کے ہر امام کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا کہ لوگوں نے ان کو نشانۂ ملامت بنایا، اور اس کے نتیجہ میں ہلاک ہونے والے ہلاک ہوئے — مَا مِنْ إِمَامٍ إِلَّا وَقَدْ طُعِنَ فِيهِ طَاعِنُونَ، وَهَلَكَ فِيهِ هَالِكُونَ (طبقات الشافعیۃ الكبری للسبكی، جلد 2 ، صفحہ 9)۔
ایک چیز ہے اختلاف رائے اور دوسری چیز ہے طعن۔ دلیل کے ساتھ اختلاف رائے کرنا عین جائز بلکہ مفید ہے۔ مگر بے دلیل الزام لگانا اور شخصی عیب جوئی کرنا ہرگز جائز نہیں۔ اس کا نام طعنہ زنی ہے۔ اور وہ بلاشبہ ایمان کے منافی ہے۔
ہر زمانہ کے امام (بڑی شخصیتوں) کے ساتھ طعنہ زنی کیوں کی گئی۔ اس کا وا حد سبب حسد ہے۔ انسان اپنے سوا کسی اور کو بڑا ماننا نہیں چاہتا ، اس لیے جب وہ کسی کو بڑا ہوتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کی عیب جوئی کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکالتا ہے ۔ جس سے وہ حسد کرتا ہے اس کو وہ عملی طور پر چھوٹا نہیں کر پاتا تو لفظوں میں اسے چھوٹا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ منفی نفسیات کے زیراثر وہ بھول جاتا ہے کہ اس طرح وہ خود اپنے آپ کو چھوٹا کر رہا ہے ، نہ کہ کسی دوسرے کو۔
