تفریق کا سبب
اختلافات ہمیشہ چھوٹے مسائل میں ہوتے ہیں، نہ کہ بڑے بڑے مسائل میں۔ مثلاً ’’محمد بن عبد الله پیغمبر تھے‘‘ اس میں کوئی اختلاف نہیں ۔ یہ عقیدہ تمام مسلمانوں کا مشترکہ عقیدہ ہے۔ مگر آپ پر درود کیسے بھیجا جائے، اس میں جزئی اختلافات پیدا ہو گئے۔ مثلاً سنی حضرات پیغمبر اسلام کے نام کے ساتھ’’ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کا لفظ لکھتے اور بولتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں شیعہ حضرات کا طریقہ یہ ہے کہ وہ آپ کے نام کے آگے’’ صلی اللہ علیہ والہ ‘‘ یا ’’ صلی اللہ علیہ والہ وسلم‘‘کا لفظ بولتے ہیں۔
اسی طرح مثلاً تمام مسلمان اس کو مانتے ہیں کہ ایک مسلمان جب دوسرے مسلمان سے ملے تو وہ سلام اور مصافحہ کرے مگر یہاں یہ اختلاف ہے کہ حنفی لوگ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرتے ہیں اور اہل حدیث حضرات ایک ہاتھ سے مصافحہ کرتے ہیں۔
شریعت میں اس طرح کے اختلافات کا پیدا ہو نا بذات خود نہ غلط ہے اور نہ مضر، بلکہ اس طرح کے اختلافات ایک طبیعی امر ہیں اور ہر گروہ میں اور ہر زمانہ میں پیدا ہوتے ہیں۔ مگر اصل غلطی یہ ہے کہ لوگ موشگافیاں (hair-splitting)کر کے یہ ثابت کر نا شروع کر دیتے ہیں کہ ان کا طریقہ افضل ہے اور دوسرے کا طریقہ غیر افضل ان کا طریقہ راجح ہے اور دوسرے کا طریقہ مرجوح ۔ بس یہیں سے خرابی شروع ہو جاتی ہے۔ لوگ غیر ضروری بحثیں کرنے لگتے ہیں اور انھیں چھوٹی چھوٹی باتوں کی بنیاد پر ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں۔
اس طرح کے معاملات میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ یہ تسلیم کر لیا جائے کہ یہ بھی درست ہے اور وہ بھی درست ہے۔ آدمی جس طریقہ کو چاہے اختیار کرے اور اس کے ساتھ دوسرے کو دوسرے طریقہ پرچلنے دے ۔اس طرح کے ضمنی امور میں راجح اور مرجوح ، افضل اور غیر افضل کی بحث چھیڑ نا سخت مضر ہے ۔ ایسی بحث ہمیشہ اس قیمت پر ہوتی ہے کہ بنیادی چیزوں سے نظریں ہٹ جائیں اور غیربنیادی چیزیں لوگوں کی تو جہات کا مرکز بن جائیں اور نتیجہ میں امت مختلف ٹکڑوں میں بٹ کر رہ جائے۔
اساسی اور بنیادی چیزوں میں زور دینے کا لازمی نتیجہ اتحاد ہے اور جزئی اور ضمنی چیزوں میں زور دینے کا لازمی نتیجہ اختلاف۔
