21دسمبر 2013
انسان کے اندر سب سے زیادہ اعلیٰ صفت وہ ہے کہ جس کو صفتِ تفکیر (thinking quality)کہا جاتا ہے ۔ ہر انسان مکمل معنوں میں آزادانہ فکر کا حامل ہوتا ہے ۔ انسان کی اِسی تخلیقی صفت سے اختلاف ِ رائے کا مسئلہ پیدا ہو تا ہے۔ انسانوں کے اندر اختلاف ِ رائے ہمیشہ رہا ہے اور ہمیشہ باقی رہے گا ، وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ انسان کے لیے محفوظ موقف کیا ہے، یعنی وہ موقف جس کی بنا پر وہ اللہ کے سامنے گرفت سے بچ جائے ۔ مطالعے کے مطابق ، اِس معاملے میں محفوظ موقف یہ ہے کہ ہر آدمی اپنی فہم کی نسبت سے آزاد ہو، لیکن حکم لگانے کا حق کسی کو حاصل نہ ہو۔ اسی کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کو یہ آزادی ہو کہ وہ دیانت داری (honesty)کے ساتھ جس چیز کو حق سمجھے اُس پر قائم رہے۔ دوسرے شخص کے بارے میں اگر وہ محسوس کرے کہ اِس کی رائے غلط ہے تو اِس اختلاف کو صرف ذہنی اختلاف کے درجہ میں رکھے، اس کو فیصلہ (judgement)کے درجے تک نہ لے جائے ۔ یہ وہی بات ہے جس کو سیکولر علما ا س طرح کہتے ہیں کہ :
Everyone has right to dissent, but no one has right to pass value judgement.
