5 جولائی 1983
حضرت عمر فاروق اور حضرت عبد اللہ بن مسعود کے درمیان سو سے زیادہ مسائل میں اختلاف رائے تھا (اعلام الموقعین لابن القیم، جلد2، صفحہ167)۔ دونوں اپنی اپنی رائے پر مصر بھی تھے۔ اس کے باوجود دونوں کے تعلق میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ حضرت عمر فرماتے تھے کہ ’’ابن مسعودعلم وفقہ کا خزانہ ہیں ‘‘ —كُنَيْفٌ مُلِئَ فِقْهًاو علْمًا (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد2، صفحہ297)۔ اور جب حضرت عمر شہید ہوئے توحضرت عبد اللہ بن مسعود نے کہا :عمر اسلام کا مضبوط قلعہ تھے۔ جو اس میں داخل ہوتا وہ باہر نہ جاتا ۔ جب وہ نہ رہے تو اسلام کے قلعہ میں دراڑ پڑ گئی— إِنَّ عُمَرَ كَانَ لِلْإِسْلَامِ حِصْنًا حَصِينًا، يَدْخُلُ فِيهِ الْإِسْلَامُ وَلَا يَخْرُجُ مِنْهُ، فَلَمَّا قُتِلَ عُمَرُ انْثَلَمَ الْحِصْنُ(مصنف ابن ابی شیبہ، اثر نمبر 31977)۔
