29 اکتوبر 1984
خلیفہ منصور عباسی نے حج کیا تو دیکھا کہ لوگ طرح طرح سے مراسم حج ادا کر رہے ہیں۔ اس نے چاہا کہ امام مالک کی کتاب کی بہت سی نقلیں تیار کر کے تمام بلاد وامصار میں روانہ کرے اور لوگوں کو ہدایت کر دے کہ وہ اسی کتاب (موطا) کے مطابق حج کے مراسم ادا کریں۔ خلیفہ نے جب اپنے اس ارادہ کا ذکر امام مالک سے کیا تو انھوں نے کہا:يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَاتَفْعَلْ هَذَا (طبقات ابن سعد، جلد 7، صفحہ573)۔یعنی، اےامیر المومنین ایسا نہ کیجیے ۔
اس کے بعد خلیفہ ہارون الرشید کا زمانہ آیا۔ اس نے بھی سفر حج میں مذکورہ منظر دیکھا تو مدینہ پہنچ کر دوباره امام مالک سے وہی بات کہی جو خلیفہ منصور نے کہی تھی۔ امام مالک نے دوبارہ جواب دیا:لَا تفعل فَإِنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِي الْفُرُوعِ وَتَفَرَّقُوا فِي الْبُلْدَانِ وَكُلّ مُصِيب (المیزان الکبریٰ للشعرانی، جلد1، صفحہ215)۔ یعنی، اے امیرالمومنین ایسا مت کیجیے۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب فروعی امور میں مختلف تھے اور وہ شہروں میں پھیل گئے اور ان میں سے ہر ایک درست ہے ۔
یہ محدثین کا نقطہ نظر تھا۔ وہ صحابہ کے اختلاف کو توسع پر محمول کرتے تھے ۔ امام سفیان ثوری کا قول ہے :لَا تَقُولُوا اخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِي كَذَا اخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِي كَذَا قَدْ وَسَّعَ الْعُلَمَاءُ عَلَى الْأُمَّةِ بِكَذَا (المیزان الکبریٰ للشعرانی، جلد1، صفحہ162)۔ یعنی،یہ نہ کہو کہ علما نے اس میں اختلاف کیا بلکہ یہ کہو کہ اس میں علما نے امت پر توسع کیا ہے۔
فروعی امور میں صحابہ کے اختلافات جن کو محدثین نے توسع قرار دیا تھا ، انھیں اختلافات پر فقہا نے اپنی اپنی فقہ کی بنیاد رکھ دی۔ فقہا نے ان اختلافات کو لے کر یہ بحث شروع کردی کہ کون صحیح ہے اور کون غیر صحیح ۔ کون اولی ہے اور کون غیراولی۔ کون افضل ہے اور کون غیرافضل۔ یہ بحثیں یقینی طور پر بدعت تھیں ۔ انھیں بحثوں کے نتیجہ میں امت کے اندر وہ اختلافات و انتشار پیدا ہوا جو پھر کبھی ختم نہ ہوا۔ فقہا اگران فروعی اختلافات کو محدثین کی طرح توسع کے خانہ میں رکھتے تو امت بے شمار لایعنی جھگڑوں سے بچ جاتی۔
