18نومبر2011
نئی دہلی میں ایک کرشچن سینٹر ہے۔ اس کا نام ہےCISہاؤس (جنگپورہ)۔ 17نومبر 2011کو اس سینٹر کے ہال میں ایک پروگرام تھا۔ اس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ عیسائی حضرات شریک تھے۔ اس میں ناروے کے تین پیس ایکٹوسٹ بھی موجود تھے۔ اس اجتماع میں صرف میری تقریر تھی۔ اس میں مجھ کو ڈیڑھ گھنٹے کا وقت دیا گیا، 45 منٹ تقریر اور45 منٹ سوال وجواب۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔ اس موقع پر میرے ساتھیوں نے تمام شرکا کو تعارفِ اسلام پر مبنی لٹریچر دیا۔
اجتماع کے خاتمے پر اس کے کنوینر اور ناظم ڈاکٹر سموئل تھامس (فادر) نے ہمارے ساتھی مسٹر رجت ملہوترا کو ایک لفافہ یہ کہتے ہوئے دیا کہ آپ نے پروگرام میں جو لٹریچر تقسیم کیا ہے، یہ اس کے لیے ہے۔ اس لفافے میں5ہزار روپے تھے۔ یہ ایک انوکھا تجربہ تھا۔ اس اجتماع کا پورا انتظام مسیحی حضرات نے کیا تھا۔ انہوں نے ہمارے ساتھیوںکو پورا موقع دیا کہ وہ شرکا کے درمیان اسلامی لٹریچر تقسیم کریں۔ پھر آخر میں انہوں نے تقسیم کیے جانے والے لٹریچر کی قیمت بھی شکریہ کے ساتھ ادا کردی۔
یہ واقعہ دورجدید کے مزاج کو بتاتا ہے۔ دورجدید کے انسان کا مزاج یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود ہر ایک کا احترام اور اعتراف کرو۔ موجودہ زمانے کے مسلم علما اور رہنماؤں نے دورجدید کے اس مزاج کو نہیں سمجھا۔ وہ فرضی شکایتوں کو لے کر دور جدید کے خلاف ہوگئے۔ اپنے اس منفی مزاج کی بناپر وہ دور جدید کے ذہن کو اور اس کے امکانات کو سمجھ نہ سکے۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ وہ موجودہ زمانے میں دنیا کے سامنے مذہب کا مثبت تعارف پیش نہ کرسکے۔
