امریکا کی مثال
نومبر-دسمبر1999 میںامریکا کے لیے میرا دسواں سفر ہوا۔ میں اپنے سفروں میں ہمیشہ وہاں کے حالات جاننے کی کوشش کرتا ہوں۔ موجودہ زمانہ میںامریکا کو مادی اعتبار سے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے۔ اس کا راز میں نے یہ جانا کہ امریکا کے لوگ کٹر ذہن کے نہیں ہیں۔ وہ تجربہ سامنے آنے کے بعد فوراً اس کے مطابق اپنی اصلاح کر لیتے ہیں۔انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ فرق و اختلاف انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ اس کا تعلق زندگی کے ہر شعبہ سے ہے۔ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان کوئی بھی مسئلہ ایسا نہیں ہے جس میں وہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف نہ ہوں۔ بالفرض اگر ہم مذہبی فرق کو ختم کر دیں تب بھی ہزاروں معاملات ایسے باقی رہیں گے جن میں لوگوں کے درمیان فرق و اختلاف موجود ہوگا۔ ایسی حالت میں اصل ضرورت یہ ہے کہ مجموعی انسانی زندگی کے لیے اتحاد کا فارمولا دریافت کیا جائے، نہ کہ صرف مذہبی شعبہ کے لیے۔ اور یہ فارمولہ صرف ایک ہے— اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی عزت کرنا اور باہم مل جل کر رہنا۔
