14 دسمبر 1992ء کو ڈیفنس کالونی (نئی دہلی) میں بابری مسجد کے واقعہ کے بعدایک ٹی وی پروگرام ہوا۔ اس میں مختلف مذہبوں کے لوگ جمع ہوئے۔ پروگرام کے اینکر نے ہر ایک سے ایک ہی سوال کیا ’’موجودہ حالات میں آپ دیش کے لوگوں کو کیا سندیش دینا چاہیں گے۔‘‘ ہر مذہب کے نمائندہ نے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت یہ ہے کہ امن قائم ہو اور نفرت کا خاتمہ کیا جائے۔ میں نے بھی یہی بات اپنے انداز سے کہی۔
میں نے مزید کہا کہ جب کچھ لوگ مل کر رہیں، تو خواہ وہ ایک گھر میں ہوں یا ایک ملک میں، بہرحال ایسے مواقع آتے ہیں کہ ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچتی ہے۔ اس لیے عملی طور پر امن اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب کہ اختلافی بات پیش آنے کے باوجود امن و محبت کا طریقہ اختیار کیا جائے۔
