4 مئی 1990ءکی سہ پہر کو جنیوا سے دکار کے لیے روانگی ہوئی۔ میری سیٹ کھڑکی سے ملی ہوئی تھی۔ باہر کی طرف دیکھا تو جہاز کا ’’پر‘‘ لمبا پھیلا ہوا تھا۔ پر (wing)کے اوپر انگریزی میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے کہ اس کے آگے نہ چلیں:
Do not walk outside this area.
ہوائی جہاز جب ایئر پورٹ پر کھڑا ہوتا ہے تو کارکن حضرات اس کو چیک کرتے ہیں۔ اس وقت کوئی شخص چلتا ہوا پر کے اوپر پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے اس کو پر کے اوپر چلنے سے منع کر دیا گیا ۔ کیونکہ ہوائی جہاز کا پر اس کا کمزور حصہ ہے۔ وہ انسانی بوجھ کا تحمل نہیں کر سکتا۔
ہوائی جہاز کے پَر (wing)کے اوپر مذکورہ الفاظ پڑھتے ہوئے مجھے وہ حدیث یاد آگئی جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی کچھ حدیں ہیں تم ان حدوں سے تجاوز نہ کرو — وَحَدَّ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا (المعجم الصغیر للطبرانی، حدیث نمبر 1111)۔ ’’حد‘‘ کا معاملہ دنیا اور آخرت دونوں قسم کے معاملات میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں عالَموں میں وہی لوگ کامیاب رہیں گے جو حد کو جانیں۔ مثلاً کسی سے آپ کو اختلاف ہو تو علمی تردید کی حد تک آپ جا سکتے ہیں۔ اس کے آگے الزام تراشی اور کردار کشی اور سبّ و شتم کے لیے زبان و قلم کو استعمال کرنے کی کسی کو اجازت نہیں۔ اسی طرح عمل کے معاملہ میں جائز حدود میں سرگرم ہونے کی ہر ایک کو اجازت ہے۔ مگر جائز حدود کے باہر کسی کو اجازت نہیں۔
