17جنوری1995
المیزان الکبری میں عبد الوہاب شعرانی (وفات 973ھ)نے سفیان ثوری (وفات 161ھ)کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا ہے:قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ:’’لَا تَقُولُوا:اخْتَلَفَ العُلَمَاءُ فِي كَذَا، وَقُولُوا:قَدْ وَسَّعَ العُلَمَاءُ عَلَى الأُمَّةِ بِكَذَا (المیزان الکبریٰ للشعرانی، جلد1، صفحہ162)۔سفیان ثوری نے کہا کہ یہ نہ کہو کہ اس مسئلے میں علما نے اختلاف کیا ہے۔ بلکہ یہ کہو کہ علما نے ایسا کرکے امت کے لیے گنجائش پیدا کردی۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی مسئلہ میں اہل علم کی کئی رائیں ہوتی ہیں۔ ایسے معاملے میں ایک صورت یہ ہے کہ اس کو محض اختلاف قرار دیا جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس اختلاف کو توسع اور تنوع کے معنی میں لیا جائے۔ پہلی صورت میں لوگوں کے اندر منفی ماحول بنتا ہے اور دوسری صورت میں مثبت ماحول۔
