نزاع مینجمنٹ
نزاع پیدا ہونے کے وقت کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے، وہ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتاہے:فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْأَمْر(22:67)۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے:پس وہ امر میں ہرگز تم سے نزاع نہ کریں۔ لفظی طور پر دیکھیے تو بظاہر اس آیت میں فریقِ ثانی کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ ہرگز تم سےنزاع نہ کرے۔ مگراس کا مطلب یہ نہیں ہے۔ بلکہ عربی اسلوب کے مطابق، اس کا مطلب یہ ہے کہ فریق ثانی کو تم یہ موقع نہ دو کہ وہ تم سے نزاع کرے۔
اس آیت کی تفسیر میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی (وفات 1810ء) نے زجاج کا قول نقل کیا ہے:قَالَ الزَّجَّاجُ:مَعْنَى قَوْلِهِ ’’فَلَا يُنَازِعُنَّكَ‘‘ لَا تُنَازِعْهُمْ أَنْتَ، كَمَا يُقَالُ:’’لَا يُخَاصِمَنَّكَ فُلَانٌ‘‘ أَيْ لَا تُخَاصِمْهُ، وَهَذَا جَائِزٌ فِيمَا يَكُونُ بَيْنَ ٱثْنَيْنِ، فَلَا يَجُوزُ ’’لَا يَضْرِبَنَّكَ زَيْدٌ‘‘ تُرِيدُ لَا تَضْرِبْهُ، وَجَازَ ’’لَا يُضَارِبَنَّكَ زَيْدٌ‘‘ بِمَعْنَى لَا تَضْرِبْهُ، وَذَلِكَ لِأَنَّ ٱلْمُنَازَعَةَ وَٱلْمُخَاصَمَةَ لَا تَتِمُّ إِلَّا بِٱثْنَيْنِ، فَإِذَا تَرَكَ أَحَدُهُمَا ذَهَبَتِ ٱلْمُخَاصَمَةُ(تفسیر المظہری، جلد6، صفحہ346)۔ یعنی زجاج نے کہا بظاہر نزاع کی ممانعت مشرکوں کو ہے ،لیکن حقیقت میں ممانعت کا رخ رسول اللہ کی طرف ہے۔ عرب کہتے ہیں فلاں شخص تم سے جھگڑا نہ کرے ،یعنی تم اس سے جھگڑا نہ کرو۔ لیکن ایسا ان افعال میں ہوتا ہے جو طرفین سے صادر ہوں۔پس... لاَ یُضَارِ بَنَّکَ زَیْدٌ (زید تم سے مار پیٹ نہ کرے) کا مطلب یہ ہے کہ تم زید کو نہ مارو۔کیوں کہ مخاصمت اور نزاع دو آدمیوں کے درمیان ہوتا ہے۔جب ایک فریق نزاع ترک کر دے تو مخاصمت اپنے آپ باقی نہیں رہتا۔
اس اصول کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتاہے کہ نزاع (controversy) پیدا ہو تو اس کو جوابی نزاع تک پہنچنے نہ دو۔بلکہ اس پر نزاع مینجمنٹ کے حکیمانہ اصول کو اپلائی کرتے ہوئے پہلے ہی مرحلے میں ختم کردیا جائے۔نزاع عملاً ایک فریق کی طرف سے پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اگر فریقِ ثانی نزاع کو یک طرفہ طور پر ختم کردے تو نزاع عملاً باقی نہیں رہے گا۔ نزاع اگرچہ دوطرفہ عمل ہے، لیکن نزاع کو ختم کرنا،ہمیشہ ایک فریق کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
