کراچی(چاندنی چوک، ناظم آباد) کی محمدی مسجد کے خطیب جناب سید عبدالرؤف صاحب کو ایک تلخ تجربہ ہوا۔ انہوں نے ایک بار جامعہ کراچی میں قرآن کی تلاوت کی۔ تلاوت کے خاتمہ پر، عام قاریوں کے معمول کے خلاف، انہوں نے صدق اللہ العظیم نہیں کہا۔ اس پر ایک طالب علم نے انہیں ٹوکا اور کہا:جناب، آپ ایک آیت چھوڑ گئے ہیں۔
جناب عبدالرؤف صاحب پر اس کا سخت ردعمل ہوا۔ ان کے ذہن میں یہ خیال جڑ پکڑ گیا کہ چونکہ علما اور قرّاءنے اختتام تلاوت پرصدق اللہ العظیم کہنا اپنا معمول بنا لیا ہے۔ لہٰذا اس تواتر عمل نے عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ مغالطہ پیدا کر دیا ہے کہ شاید یہ الفاظ بھی قرآن کا مستقل حصہ ہیں۔ ان کا یہ احساس اتنا شدید ہوا کہ وہ تلاوت قرآن کے آخر میں اس کلمہ کے کہنے کو بدعت و گمراہی سمجھنے لگے۔ چنانچہ انہوں نے اس سلسلہ میں ایک سخت مضمون لکھا جو لاہور کے ماہنامہ حکمت قرآن(نومبر، دسمبر1989) میں دو قسطوں میں چھپا۔اس مضمون کی اشاعت کے بعد جوابی ردوکد ہوئی۔ یہاں تک کہ حکمت قرآن(مارچ1990) میں مدیر محترم نے لکھا کہ یہ انتہا پسندانہ نقطہ نظر ہے۔ اگر دور اول میں اس کا معمول نہ ہو تب بھی تلاوت قرآن کے آخر میں صدق اللہ العظیم کہنا بدعت اور گمراہی نہیں۔ یہ گویا اختتام تلاوت کی علامت ہے اور اس اعتبار سے اس میں کوئی قباحت نہیں۔
میں نے ایک صاحب سے گفتگو کے دوران کہا کہ مذکورہ طالب علم کی بات محض ایک انفرادی بات تھی، اس کو اتنی زیادہ اہمیت دینا اور اس کو عمومی گمراہی سمجھ کر اس پر بحث جاری کر دینا صحیح نہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے مذہبی حلقوں میں عام طور پر یہی ذہن چھایا ہوا ہے۔ اور اختلاف کا اصل سبب یہی مزاج ہے۔
