30جولائی2003
دو صاحبان ملاقات کے لیے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک خاص مشن پر انڈیا آئے ہیں۔ ان میں سے ایک برونئی کے تھے اور دوسرے ملیشیا کے۔ ان کے نام یہ ہیں:
Seah Ling Pau (Brunoi)
Dr. Happy Tong Chan Wah M.D (Malaysia)
انہوں نے کہا کہ وہ اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ہر مذہب کا پیغام صرف ایک ہے۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ اس مشترک مقصد کے اوپر تمام مذاہب کو متحد کریں۔ ان کے بیان کے مطابق، دنیا بھر میں تقریباً دس ملین آدمی ان کے حامی بن چکے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ نظریہ بہت سے لوگ پیش کرچکے ہیں۔ مگر ہر ایک اس میں ناکام ہوا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ آپ جیسے لوگ، ہر مذہب میں کچھ منتخب اجزاء لے کر اس قسم کی یکسانیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ حالاں کہ کسی مذہب کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے اس کی ساری تعلیمات کو سامنے رکھنا ہوگا، نہ کہ صرف بعض تعلیمات، میں نے کہا کہ اختلاف فطرت کا حصہ ہے اور یہ اختلاف مذاہب کے درمیان بھی موجود ہے۔ آپ ان اختلافات کو ختم نہیں کرسکتے۔ اس لیے اتحاد کا صحیح فارمولا یہ ہے:
Follow one and respect all.
