ایسی بحثیں نہ چھیڑو جو لوگوں کو

اللہ سے غافل کر دے

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَها هُزُواً أُولئِكَ لَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ ۔ وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِ آياتُنا وَلَّى مُسْتَكْبِراً كَأَنْ لَمْ يَسْمَعْها كَأَنَّ فِي أُذُنَيْهِ وَقْراً فَبَشِّرْهُ بِعَذابٍ أَلِيمٍ(31:6-7)۔ یعنی، اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے کہ مول لیتا ہے غافل کرنے والی بات (لَهْو الْحَدِيث)کو تاکہ اللہ کی راہ سے بے سمجھے بھٹکا دے اور اس کی ہنسی  اڑائے ۔ ایسے لوگوں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے ۔ اور جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ گھمنڈ کے ساتھ اس طرح منھ موڑ لیتا ہے جیسے اس کو سناہی نہیں ۔ جیسے اس کے کان بہرے ہیں۔ اس کو خبر دے دو دکھ والے عذاب کی ۔

اس آیت میں لَهْو الْحَدِيثِ سے کیا مراد ہے ۔ اس سلسلے میں مفسرین کی رائےمختلف ہیں۔ عبدالله بن مسعود ؓ نے اس کی تفسیر غناءسے کی ہے، اور ضحاک نے شرک سے (تفسیر ابن کثیر، جلد6، صفحہ109)۔ مگر مفسرین کے (entertainment song and music) اصول کے مطابق ، اس کا شان نزول اگرچہ خاص ہو تب بھی عموم الفاظ کی وجہ سے اس کا حکم عام رہے گا۔ جو لہو یا شغل بھی سبیل اللہ سے ہٹانے کا سبب بنے وہ سب درجہ بدرجہ اس میں شامل ہوگا ۔ ابن جریر نے کہا ہے کہ ہر وہ کلام لہو الحدیث ہے جو اللہ کی آیتوں سے روکے اور اس کے راستہ کے اتباع سے ہٹائے (كُلُّ كَلَامٍ يَصُدُّ عَنْ آيَاتِ اللهِ وَٱتِّبَاعِ سَبِيلِهِ)تفسیر ابن کثیر، جلد6، صفحہ109۔ حسن بصری نے کہا کہ ہر وہ چیز لہو الحدیث ہے جو اللہ کی عبادت اور اس کی یاد سے ہٹانے والی ہو مثلاً فضول قصہ گوئی ، ہنسی مذاق کی باتیں، بے کار مشغلے ، گانا بجانا وغيره (كُلُّ مَا شَغَلَكَ عَنْ عِبَادَةِ اللهِ تَعَالَى وَذِكْرِهِ مِنَ السَّمَرِ وَالأَضَاحِيكِ وَالخُرَافَاتِ وَالغِنَاءِ وَنَحْوِهَا ) روح المعانی، جلد11، صفحہ66۔

موجودہ زمانہ میں کون سی چیزیں ہیں جو لہو الحدیث کا مصداق ہیں— وہ تمام تفریحی تماشے اور وہ سستا لٹریچر اس میں شامل ہے جو اپنی سنسنی خیزی اور رومانیت کی وجہ سے لوگوں کے لیے ذہنی شراب بنا ہوا ہے۔ اس میں وہ مقدس حلقے بھی شامل ہیں جنھوں نے بناوٹی قصے کہانیوں کی ایک مذہبی طلسم ہوش ربا تیار کر رکھی ہے اور اس کو سنا سنا کر لوگوں کو مدہوش رکھتے ہیں۔ وہ شعر و شاعری اور خطابت بھی اس میں شامل ہے جو لفظ بازی کے کرتب دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے ۔

اسی طرح اس میں وہ سیاسی تحریکیں بھی شامل ہیں جو سیاست کی چاشنی تقسیم کرکے لوگوں کو اپنی طرف مائل کیے ہوئے ہیں۔ پھر اس میں وہ تمام مذہبی مناظرے (مسلکی اختلافات)بھی شامل ہیں جو لوگوں کے ذہنوں کو غیر متعلق بحثوں میں الجھا کر مثلِ صحابہ ایمان سے دور کردیتے ہیں۔ غرض وہ تمام آوازیں جو جو تفریحی دل چسپی کا سامان پیدا کر کے لوگوں کو حق کے راستے سے غافل کریں اور اللہ کے سیدھے سادے دین سے بے رغبت کریں۔ وہ سب درجہ بدرجہ اس میں شامل رہیں گی ۔ خواہ اپنے اس مشغلہ کو انھوں نے ارادۃً حق سے روکنے کے لیے جاری کیا ہو یا ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے بطور واقعہ یہ نتیجہ برآمد ہو رہا ہو۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion