9 اپریل 1983
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ (مسند احمد، حدیث نمبر 18516)۔یعنی،اختلاف نہ کرو، ورنہ تمہارے دل با ہم مختلف ہو جائیں گے۔ دوسری روایت یہ ہے:اختلافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ (المقاصد الحسنۃ، حدیث نمبر 39)۔ یعنی،میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔
اہل علم کی ایک تعداد نے دوسری روایت کو موضوع یا کم از کم غیر معتبر بتایا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس کی اسناد کمزور ہیں۔ نیز یہ کہ ان میں تضاد ہے۔ ابن حزم لکھتے ہیں کہ اگر ہم یہ مان لیں کہ اختلاف رحمت ہے تو یہ بھی ماننا ہوگا کہ اتفاق زحمت ہے (لَوْ الِاخْتِلَافُ رَحْمَةً كَانَ، لَكَانَ الِاتِّفَاقُ سُخْطًا) الاحكام في اصول الاحکام لابن حزم، جلد 5،صفحہ 64۔
مگر ابن حزم اور دوسرے حضرات کی یہ تنقید صحیح نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں روایتوں میں اختلاف دو الگ الگ معنوں میں ہے ۔ پہلی روایت میں اختلاف کا لفظ اپنے آخری معنی کے اعتبار سے استعمال ہوا ہے اور دوسری روایت میں صرف ابتدائی معنی میں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ پہلی روایت میں اختلاف کا لفظ اختلاف میں اصرار کی حد تک جانے کے معنی میں ہے اور دوسری روایت میں مجرد اظہارِ اختلاف کے معنی میں۔
جس معاشرہ میں اظہار رائے کی آزادی ہو ، اس کے ساتھ لوگ یہ بھی جانتے ہوں کہ اختلاف کے باوجود انھیں ہرحال میں جماعت کے ساتھ متحد رہنا ہے، ایسے ماحول میں اختلاف رحمت بن جاتا ہے۔ مگر جہاں ہر آدمی اپنی رائے پر اصرار کرنے لگے ، اختلاف کے بعد وہ کسی طرح متحد ہونے کے لیے تیار نہ ہو تو ایسے ماحول میں اختلاف صرف بربادی تک پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔ پہلے اختلاف کی ایک حد ہے ۔ اور وہ حد یہ ہے کہ جب تک وہ رحمت کا باعث ہے ، اس وقت تک اختلاف، اس کے بعد اختلاف نہیں۔ اس کے برعکس، دوسرا اختلاف کسی حد کو نہیں جانتا۔ وہ شروع ہونے کے بعد برابر جاری رہتا ہے ، خواہ اس کے بعد مسلمان ٹکڑے ٹکڑے ہوکر آپس میں لڑنے لگیں ۔
