9دسمبر 1991ء

 قرآن میں ہے :قُلْ ‌كُلٌّ ‌يَعْمَلُ ‌عَلى ‌شاكِلَتِهِ ‌فَرَبُّكُمْ ‌أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدى سَبِيلاً (17:84)۔ یعنی، کہو کہ ہر ایک اپنے طریقہ پر عمل کر رہا ہے۔ اب تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ ٹھیک راستہ پر ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے ذاتی شاکلہ سے مطابقت کی بنا پر سمجھ لیتا ہے کہ یہ حق ہے۔ حالاں کہ حق وہ ہے جو علم الٰہی کے مطابق حق ٹھہرے۔

ہر آدمی کا ایک مزاج (mindset)ہوتا ہے جو اس کے حالات کے تحت اس کے اندر بن جاتا ہے۔ اسی کا نام شاکلہ ہے۔ اپنے اس شاکلہ کی بناپر کوئی چیز اس کے لیے قابل قبول ہوتی ہے اور کوئی چیز ناقابل قبول۔ اپنے مخصوص مزاج کے تحت وہ کسی مسلک کو اختیار کر لیتا ہے اور آخر کار اس سے اتنا مانوس ہو جاتا ہے کہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہی حق و صداقت ہے۔ مگر کسی کا ایک چیز سے مانوس ہو جانا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ حق بھی ہے ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے ذاتی شاکلہ سے اپنے آپ کو نکالے اور یہ جاننے کی کوشش کرے کہ وہ کیا چیز ہے جو علم الٰہی کے مطابق صحیح ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion