8ستمبر2000
عباسی خلافت کے زمانہ میں فقہائے اسلام نے ایک بہت اچھا اصول وضع کیا۔ فقہ کے جزیاتی مسائل میں ان کے درمیان بہت اختلاف تھا۔ اس اختلاف کو قابلِ برداشت بنانے کے لیے انہوں نے ایک اصول مقررکیا :مَذْهَبِي صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الْخَطَأَ، وَمَذْهَبُ الْخَصْمِ خَطَأٌ يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ (الردود والنقودللبابرتى الحنفي، جلد1، صفحہ636)۔ یعنی، میری رائے درست ہے اس احتمال کے ساتھ کہ وہ غلط بھی ہو۔ فریق ثانی کی رائے غلط ہے اس احتمال کے ساتھ کہ وہ صحیح بھی ہو۔
اس اصول کا یہ فائدہ ہوا کہ فقہا اختلافات کے باوجود اجتماعیت پر قائم رہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جدید جمہوریت اسی اصول کے سیاسی انطباق کا نام ہے۔ موجودہ جمہوریت میں ہر آدمی اپنی ایک سیاسی رائے رکھتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ دوسرے کو بھی یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی سیاسی رائے کو درست سمجھے اور یکساں طور پر اقتدار میں شرکت کا حقدار ہو۔
بدقسمتی سے مسلمانوں میں مذکورہ اصول فقہی جزئیات کے دائرے میں محدودرہا، وہ سیاسی دائرے میں رائج نہ ہوسکا۔ اس کا یہ نتیجہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان شخصی حکمرانی یا بادشاہت والی سیاست تو دنیا میں چلا سکے، مگر وہ جمہوری سیاست کو اختیار کرنے میں ناکام رہے۔ خلافت راشدہ کے بعد جمہوری سیاست مسلمانوں میں نہ پہلے کبھی تھی اور نہ آج ہے۔ سیاسی اعتبار سے یہ مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ اس کمزوری کے ساتھ وہ جدید دو رمیں کبھی بھی کوئی طاقت ور سیاسی نظام نہیں بنا سکتے۔
