12جون1996
جابر بن سلیم ایک صحابی ہیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلیم سے کہا کہ مجھے کوئی نصیحت کیجیے۔ آپ نے فرمایا:لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4084)۔یعنی کبھی کسی شخص کو گالی نہ دینا۔
یہاں غورکرنے کی بات یہ ہے کیا کوئی شخص نارمل حالت میں کسی کو گالی دیتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ گالی کسی کے منھ سے صرف اس وقت نکلتی ہے جب اس کو اشتعال دلادیاجائے۔ گالی دراصل جوابی اشتعال ہے۔ اس اعتبار سے رسول اللہ کی نصیحت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی اشتعال انگیزی کرے تب بھی تم مشتعل نہ ہونا۔ تم اپنے آپ کو منفی ردعمل سے مکمل طور پر بچانا۔
