16 جون 1989
مکہ سے ایک عربی ماہنامہ نکلتا ہے جس کا نام الرابطۃ ہے۔ اس کے شمارہ ذوالقعدہ 1409ھ میں مدینہ کا مسجد نبوی کے امام الشیخ علی عبد الرحمٰن الحذیفی کا ایک خطبہ نقل کیا گیا ہے جو انھوں نے وہاں کی مسجد نبوی میں دیا تھا۔ انھوں نے کہا:يَا أُمَّةَ الْإِسْلَامِ، لِمَاذَا الِاخْتِلَافُ وَالدِّينُ وَاحِدٌ، إِلَى مَتَى الشِّقَاقُ وَالْأُمَّةُ وَاحِدَةٌ، إِلَى مَتَى التَّفَرُّقُ وَأَنْتُمْ تُدْرِكُونَ مَا فِيهِ مِنَ الضَّرَرِ وَالْفَسَادِ(صفحہ 6)۔یعنی، اے مسلم امت باہمی اختلاف کیوں، جب کہ دین ایک ہے ۔ باہمی جھگڑے کب تک، جب کہ امت ایک ہے ۔ باہمی تفریق کب تک حالاں کہ تم جانتے ہو کہ اس میں کتنا زیادہ نقصان اور بگاڑ ہے۔
مسلمانوں کے اندر اتحاد و اتفاق کے لیے اس قسم کی جذ باتی اپیلیں سوسال سے بھی زیادہ عرصہ سے کی جارہی ہیں۔ مگر عملی صورتحال آج اس سے بھی زیادہ خراب ہے جتنا کہ سوسال یا پچاس سال پہلے تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہرآدمی یہ فرض کر کے بول رہا ہے کہ امت اسلام واقعہ میں موجود ہے۔ جب کہ خود امت اسلام سرے سے موجود نہیں۔ مسلمانوں کی موجودہ بھیڑ کو امت اسلام سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے کسی قدیم شہر کے کھنڈروں کو دیکھ کر سمجھنا کہ خود وہ شہر زندہ حالت میں موجود ہے۔ آج سب سے پہلا کام یہ ہے کہ دوبارہ ’’امت اسلام‘‘ وجود میں لائی جائے۔ اس کے بعد ہی اگلے مرحلہ کا کوئی کام کیا جاسکتا ہے۔
