4 نومبر 1991ء
4 نومبر کو میں پونے(مہاراشٹر) میں تھا۔ وہاں انعام دار صاحب ایک بلڈر ہیں۔ انھوں نے وقف کی ایک جائداد کو لے کر اس کے اوپر تعلیمی ادارہ بنانے کا ارادہ کیا ۔ نقشہ یہ تھا کہ کئی منزلہ عمارت بنا کر اس کے اندر مختلف تعلیمی کلاس چلائیں گے ۔ اس دوران وہ رقم حاصل کرنے کے لیے دبئی گئے۔ وہاں وہ شیخ کے یہاں پہنچے تو چندہ مانگنے والوں کی قطار لگی ہوئی تھی ۔ ان کو بھی قطار میں بٹھا دیا گیا اور باری آنے پر دوسروں کی طرح انھیں ایک معمولی رقم دے دی گئی۔ انعام دار صاحب نے اس تجربہ کے بعد طے کیا کہ وہ چندہ کا طریقہ ختم کر دیں ۔ انھوں نے مجوزہ عمارت کا پورا حصہ کرایہ پر دینے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح لوگوں سے بڑی قم بطور ایڈوانس حاصل کی اور اس سے بلڈ نگ تیار کی۔ اب اوپر کی منزلوں میں تعلیمی ادارے ہیں اور نیچے کے تمام حصے کرایہ پر ہیں جن سے 30 لاکھ روپیہ سالانہ کرایہ آئے گا۔
اس تبدیلی پر کچھ ممبران نے مخالفت کا ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ پہلے پوری عمارت تعلیم میں لینے کا منصوبہ تھا۔ پھر آپ نے اس کے نیچے کے حصوں کو کرایہ پر کیوں دے دیا۔ میں نے مخالفین سے کہا کہ آپ اتنی سی بات پر مخالفت کا جھنڈا اٹھارہے ہیں۔ صحابہ کرام نے اس سے بہت زیادہ بڑے قسم کے اختلافات کو برداشت کیا۔ اس کے بعد ہی اسلام کی تاریخ بن سکی۔
