اجتماعی کام کی اہمیت
حدیث میں آیا ہے کہ:يَدُ اللهِ مَعَ الجَمَاعَةِ(سنن الترمذی، حدیث نمبر 2166)۔ یعنی اللہ کی مدد جماعت کے ساتھ ہے۔
اس حدیثِ رسول میں ’جماعت‘ سے مراد وہی چیز ہے جس کو ٹیم (team)کہا جاتا ہے۔ اللہ کا ہاتھ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جب کچھ لوگ ایک ٹیم بناکر کام کرتے ہیں تو اللہ کے قائم کردہ فطرت کے قوانین ان کے مددگار بن جاتے ہیں۔کسی گروہ میں ٹیم اسپرٹ اس بات کی ضامن ہوتی ہے کہ اس کا شروع کیا ہوا کام کسی غیر ضروری مسئلہ (problem)کا شکار نہ ہو۔ ہر فرد کی صلاحیت مقرر نشانے کے لیے بھرپور طورپر استعمال ہوتی رہے۔ جس گروہ کے افراد میں حقیقی طور پر ٹیم اسپرٹ موجود ہو، اس کے افراد اپنی نفسیات کے اعتبار سے، اس سے بلند ہوجاتے ہیں کہ وہ شکایت اور اختلاف کو عذر(excuse)بنا لیں۔ ایسے لوگوں کی اجتماعی جدوجہد کا یہ انجام کبھی نہیں ہوتا کہ اس کے افراد اختلاف و انتشار کا شکار ہوکر بکھرجائیں، اور مطلوب مشن اپنی تکمیل تک پہنچنے سے پہلے ختم ہوجائے۔
کوئی بڑا کام صرف اجتماعی کوشش سے انجام پاتا ہے۔ اجتماعی کوشش کی کامیابی کی دو بنیادی شرطیں ہیں۔ یہ شرطیں قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتی ہیں۔ وہ آیت یہ ہے:وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعاً وَلا تَفَرَّقُوا (3:103)۔یعنی تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑلو اور متفرق نہ ہو۔
قرآن کی اس آیت میں ’’حبلُ اللہ‘‘ سے مراد مشترک نظریاتی بنیاد ہے۔ متفرق نہ ہونے کا تعلق عملی جدوجہد سے ہے۔ کامیاب عملی جدوجہد کی شرط یہ ہے کہ ہر حال میں باہمی اتحاد کو برقرار رکھا جائے۔ اور عذر، خواہ وہ کتنا ہی قوی ہو، اس کو ٹیم سے علاحدگی کاجواز (justification) نہ بنایا جائے۔ ان دوبنیادی شرطوں کے ساتھ جو اجتماعی جدوجہد کی جائے، اس کو ضرور اللہ کی نصرت حاصل ہوتی ہے، اور جس جدوجہد کو اللہ کی نصرت حاصل ہوجائے، اس کی کامیابی کو روکنے والا کوئی نہیں۔
