26فروری 1986
ڈاکٹر عبدالاحدصاحب(بنگلور) ملنے کے لیے تشریف لائے۔ وہ الرسالہ کے قاری بھی ہیں اور دس پرچہ منگا کرتقسیم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ الرسالہ کے بعض قارئین کا کہنا ہے کہ الرسالہ میںتنقید نہیں رہنا چاہیے۔
میں نے کہا کہ تنقید تو کسی قوم کی زندگی کی علامت ہے۔صحابہ کرام عام طور پر ایک دوسرے کے خلاف سخت تنقید کرتے تھے۔مثلاً حضرت ابن عمر نے ایک بار حضرت ابو ہریرہ کے بارے میں کہا:كَذَبَ أَبُو هُرَيْرَةَ ( قبول الاخبار ومعرفۃ الرجال لابی القاسم بلخي، جلد 1، صفحہ 184)۔ یعنی، ابوہریرہ نے جھوٹ کہا۔ اس جملے کو اگر خالص لفظی معنیٰ میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ابو ہریرہ ساقط الروایۃ ہیں۔کیوں کہ جو شخص جھوٹ بولے اس سے روایت نہیں کی جاتی۔مگر یہ صرف شدت کلام ہے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ایک دوسرے کے خلاف تنقید کرنے میں کتنے شدید الفاظ استعمال کرتے تھے۔
حدیث میں آیا ہے:اِخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ (المقاصد الحسنۃ،حدیث نمبر39)۔اس حدیث میں لوگ اختلاف کو انتشار کے معنیٰ میں لے لیتے ہیں۔اس لیے انھیں اس کی تاویل میں سخت مشکل پیش آتی ہے۔حتیٰ کہ کچھ لوگ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ سند کے اعتبار سے یہ روایت لینے کے قابل نہیں ہے۔مگر اس تکلف کی کوئی ضرورت نہیں۔کیوں کہ اس حدیث میں اختلاف کا لفظ انتشار کے معنیٰ میں نہیں ہے۔بلکہ اختلافِ رائے(dissent) کے معنی میں ہے۔اس کا مطلب ہے، ایک رائے کی جگہ دوسری رائے کو دلیل کے ذریعے پیش کرنا ہے، نہ کہ مختلف گروہوں میں بٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اختلاف رائے کی فضا کا ہونا کسی قوم کے لیے رحمت ہے۔جس قوم میں اختلاف رائے ہوگا اس کے اندر جمود نہیں ہوگا۔اگر ان کے اندرکوئی غلطی واقع ہوگی تو وہ بذریعہ تنقید اپنی اصلاح کرتی رہے گی۔ کسی غلط روش کا برقرار رہنا اس کے اندر ناممکن ہو جائے گا۔اس کے اندر یہ ذہن ہوگا کہ چیزوں کو ان کے جوہر (merit)کی بنیاد پر اہمیت دی جائے، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔موجودہ دور میں سائنس کی ترقی اسی اختلاف کی بنیاد پر ہوئی ہے۔سائنس دانوں کے درمیان اختلاف رائے اگر ممنوع ہوتا تو کبھی سائنس ترقی نہ کرتی۔
