24 جنوری 1989

جمادی الاولی (1409ھ) میں کویت میں ایک نہایت اہم اجتماع ہوا۔ اس کی کاردائیاں کویت کے ہلٹن ہوٹل میں انجام پائیں ۔ اس میں عرب سربراہ اور مسلم حکومتوں کے نمائندے شریک تھے۔ پاکستان سے شمس الدین پیرزادہ نے شرکت کی جن کی حیثیت وزیر کی ہے ۔ اس اجتماع میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اعلی پیمانہ پرمجمع الفقہ الاسلامی قائم کی جائے جس کا ہیڈ کوارٹر جدہ ہو۔

اعلان کردہ مقاصد کے اعتبار سے یہ ایک نہایت اہم ادارہ ہے ۔ مگر یقینی ہے کہ اس کا کوئی بھی فائدہ نہ ہوگا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اس کے ’’المادة السابعة‘‘ کے مطابق ، مجمع الفقہ الاسلامی میں المؤتمر الاسلامی سے تعلق رکھنے والی ہر مسلم مملکت کا ایک ممبر ہوگا اور اس ممبر کا تعین متعلقہ حکومت کرے گی— يَكُونُ لِكُلِّ دَوْلَةٍ مِنْ دُوَلِ مُنَظَّمَةِ الْمُؤْتَمَرِ الْإِسْلَامِيِّ عُضْوٌ عَامِلٌ فِي الْمَجْمَعِ وَيَتِمُّ تَعْيِينُهُ مِنْ قِبَلِ دَوْلَتِهِ( صفحہ 121)۔

جو ادارہ مسلم حکومتوں کے نامزد کردہ افراد پر مشتمل ہو ، وہ یقینی طور پر ایک رسمی ادارہ بن کر رہ جائے گا، وہ کوئی زندہ کام نہیں کرسکتا۔ مگر دوسری مشکل یہ ہے کہ مسلمانوں کے جوغیر حکومتی ادارے ہیں وہ اختلافات کا شکار ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اجتماعی ادارے دو میں سے کسی ایک کمزوری میں مبتلا ہیں۔ اگر وہ حکومت کی سرپرستی میں ہیں تو وہ رسمی ہوکر رہ گئے ہیں اور اگر وہ آزاد ہیں تو اندرونی اختلافات کا شکار ہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion