1983 جنوری 30

حدیث کا مطالعہ امت میں جتنے بڑے پیمانے پر کیا گیا، اتنے بڑے پیمانے پر قرآن کا مطالعہ نہیں کیا گیا۔ مگرحدیث کا وہ عملی فائدہ امت کو نہ پہنچ سکا، جو امت کو اس سے پہنچنا چاہیے تھا۔ اس کی کم از کم ایک خاص وجہ یہ ہے کہ احادیث میں بہت زیادہ اختلافات ہیں ۔ امت کے علما چوں کہ ان اختلافات میں تطبیق کا کوئی متفقہ معیار دریافت نہ کرسکے، اس لیے حدیث کا مطالعہ بہت بڑے پیمانہ پر اختلافات پیدا کرنے کا سبب بن گیا ۔

حدیث کے اختلافات میں تطبیق کا میرے نز دیک واحد قابلِ عمل معیار یہ ہے کہ اس کو حالات کے اختلاف پر محمول کیا جائے ۔ یعنی یہ مانا جائے کہ انسانی حالات چوں کہ ہمیشہ مختلف قسم کے ہوتے ہیں، اس لیے حدیثوں میں بھی اختلاف پیدا ہوگیا ۔ کیوں کہ حدیثیں زیادہ تر وہ نصیحتیں ہیں جو مختلف حالات کے اعتبار سے مختلف اوقات میں لوگوں کو دی گئیں ۔

ایک مثال لیجیے۔ آپ اگر حدیث کی کتابوں میں ’’اشر بہ ‘‘ کا باب پڑھیں تو آپ پائیں گے کہ مختلف روایتوں میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے ۔مثلا بخاری اور دوسری کتب حدیث میں یہ روایتیں موجود ہیں کہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پیا ، اسی طرح صحابہ کرام نے کھڑے ہو کر پانی پیا( صحیح البخاری، حدیث نمبر5615)۔

دوسری طرف ایسی بھی حدیثیں ہیں جن میں واضح لفظوں میں کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع کیا گیا ہے ۔ مثلا مسلم اور ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا ۔ :‌نَهَى ‌عَنِ ‌الشُّرْبِ ‌قَائِمًا( صحیح مسلم، حدیث نمبر2025)۔ اس مضمون کی روایتیں مختلف کتب ِحدیث میں الفاظ کے فرق کے ساتھ آئی ہیں۔ ایک حدیث میں ہے :لَا يَشْرَبَنَّ أَحَدُكُمْ قَائِمًا (السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر 14641؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2026)۔

اس اختلاف کی توجیہ و تطبیق میں بڑی بڑی بحثیں کی گئی ہیں۔ کچھ لوگوں نے ایک نوعیت کی حدیث کی تضعیف کر کے دوسری نوعیت کی حدیث کو تسلیم کیا ہے۔ کسی نے ایک کو ناسخ اور دوسرے کو منسوخ قرار دیا ہے۔ امام نووی نے ممانعت کو کراہت تنزیہی پر محمول قرار دیا ہے، اور رسول اللہ اور صحابہ کرام کے کھڑے ہو کر پانی پینے کو جواز کے درجہ میں رکھا ہے (شرح النووی علی صحیح مسلم، جلد13، صفحہ 195)۔

مگر میرے نزدیک ان میں سے کوئی توجیہ بھی درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ یہ فرق حالات کی بنا پر ہے۔ نارمل حالات میں ایک شخص خواہ بیٹھ کر پانی پیے یا کھڑے ہو کر۔ اس سے کوئی حرج واقع نہیں ہوتا۔ مگر ایک شخص مثلاً بھاگا ہوا چلا آرہا ہے ۔ وہ آتا ہے اور ہانپتے ہوئے کہتا ہے کہ پیاس لگ رہی ہے، پانی لاؤ ۔ اب اس کے سامنے پانی لایا جا تا ہے۔ وہ کھڑے کھڑ ے وہیں پینے لگتا ہے۔ تو ایسے شخص کے بارے میں یہی کہا جائے گا کہ بیٹھ کر پانی پیو۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ جب دو قسم کا حکم ہے تو لازما ًایک مطلوب ہوگا اور دوسرا غیرمطلوب ۔ حالانکہ یہ مفروضہ غلط ہے۔ یقیناً بعض اوقات اس بنا پر بھی فرق ہوتا ہے۔ مگر بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بیک وقت دونوں حکم مطلوب ہوتے ہیں، کوئی حکم ایک قسم کے حالات میں ، اور کوئی حکم دوسرے قسم کے حالات میں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion