28 اپریل 1994
حدیث میں منافق کی ایک پہچان یہ بتائی گئی ہے:وَإِذا خاصَمَ فَجَرَ (صحیح البخاری ، حدیث نمبر34 ؛صحیح مسلم،حدیث نمبر58)۔ یہ حدیث صحیح البخاری اور صحیح مسلم دونوں میں کتاب الایمان کے تحت آئی ہے۔ ابن حجر اور نووی دونوں نے فاجر کی تشریح :مَالَ عَنِ الْحَقِّ کے لفظ سے کی ہے۔ اس کے مطابق ، حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ و ہ شخص منافق ہے کہ جب اس سے اختلافی بحث پیش آئے تو وہ انصاف سے ہٹ جائے (فتح الباری لابن حجر،جلد1، صفحہ90؛ شرح النووی علی مسلم ،جلد 2 ،حدیث نمبر 48)۔
حقیقت کا علم تو اللہ کو ہے۔ مگر مجھ سے اختلاف کرنے والے تمام مسلمان انصاف سے ہٹ گئے۔ میں نے کہا کہ مسلمان صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کریں تو مخالفین نے کہا کہ وہ بزدلی کی تعلیم دے رہے ہیں ۔ 2 دسمبر 1992 کے بعد میں نے کہا کہ مسلمان بابری مسجد کے مسئلہ پر اپنا ایجی ٹیشن ترک کر دیں تو مخالفین نے کہا کہ وہ کہتے ہیں مسلمان بابری مسجد کو ہندوؤں کے حوالے کر دیں۔ میں نے کچھ مفکرین پر عملی تنقید کی تو کہا گیا کہ دیکھو، یہ علما پر کیچڑ اچھال رہے ہیں ۔ میں نے کہا کہ ہندو مسلم نزاعی معاملات میں مسلمان پر امن جدوجہد کا طریقہ اختیار کر یں تو کہنے والوں نے میرے بارے میں کہا کہ وہ ملی تشخص سے دست برداری کی دعوت دے رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ موجودہ قومیں مسلمانوں کی حریف نہیں ہیں انسانی رشتہ کے اعتبار سے وہ مسلمانوں کی خیرخواہی کے مستحق ہیں، تو کہا گیا کہ یہ اسلام دشمنوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں، وغیرہ۔
میں کسی کو منافق نہیں کہہ سکتا، مگر حدیث کی روشنی میں یہ ضرور کہوں گا کہ مذکورہ قسم کی باتیں بلاشبہ منافق والی باتیں ہیں۔ یہ مخلصانہ ایمان والی باتیں نہیں۔
