25مئی2003

امام حسن بصری21ھ میں مدینہ میں پیدا ہوئے اور110ھ میں بصرہ میں وفات پائی۔ ان کے تفسیری اقوال کو لے کر پانچ جلدوں میں ایک تفسیر چھپی ہے:

 ماثر المفسر الاثري تفسير الحسن البصري ، شیر علي شاه، کراچی، 1993

حسن بصری کے بہت سے عارفانہ قول مشہور ہیں۔ وہ انس بن مالک صحابی کے شاگرد تھے۔ ان کی روایت کردہ ایک حدیث یہ ہے:إِنَّ ‌مِنَ ‌السَّرَفِ ‌أَنْ ‌تَأْكُلَ ‌كُلَّ ‌مَا اشْتَهَيْت َ(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر3352)۔یعنی، یہ بھی اسراف ہے کہ تم ہر وہ چیز کھاؤ جس کی تمھیں خواہش ہو۔

امام حسن بصری آج ایک معروف اور مسلّم بزرگ اور عالم جانے جاتے ہیں۔ مگر اپنے زمانہ میں وہ ایک نزاعی (controversial) شخصیت تھے۔ بہت سے لوگ ان سے اختلاف رکھتے تھے۔ ان لوگوں نے مشہور کیا کہ حسن بصری شیعیت کی طرف رجحان رکھتے ہیں۔ وہ جبروقدر کے معاملہ میں عام علما سے ہٹے ہوئے ہیں۔ اور یہ کہ وہ حلول کے قائل ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ حدیثیں وضع کرتے ہیں، وغیرہ۔

آج کسی شخص سے لوگوں کو کچھ اختلاف ہوجائے تو فوراً وہ اس کو نزاعی شخصیت قرار دے دیتے ہیں۔ حالاں کہ محض اختلاف رائے سے کوئی شخص نزاعی شخصیت نہیں بنتا۔ مثلاً جیسا کہ معلوم ہے کچھ لوگوں کو حضرت عثمان سے سخت اختلاف ہوا۔ اس طرح کچھ لوگوں کو حضرت علی سے سخت اختلاف ہوا۔ اسی طرح کچھ لوگوں کو حسن اور حسین سے اختلاف ہوا۔ اسی طرح حسن بصری، محدث البخاری، احمد بن حنبل النصرانی، ابن تیمیہ، ابن رشد اور شاہ ولی اللہ وغیرہ وغیرہ ہر ایک سے ان کے ہم عصروں نے سخت اختلاف کیا۔ مگر اس بناپر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ لوگ نزاعی شخصیت تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص رواجی اسلوب سے ہٹ کر کچھ کہے تو لوگ اس کو نزاعی شخصیت قرار دے دیتے ہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion