12جنوری 2010
عام طور پر لوگ تنقید یا اختلاف ِ رائے کو بری چیز سمجھتے ہیں ۔ مگر میں اس کو ایک نعمت سمجھتا ہوں ۔ حقیقت یہ ہے کہ تنقید یا اختلاف ِ رائے سے ذہن کو ایک نیا رخ حاصل ہوتا ہے ، نیا تصور ذہن میں ایمرج کرتا ہے ۔ میں اپنے مزاج کے اعتبار سے تنقید کو ہمیشہ معتدل انداز میں لیتا ہوں ۔ میں تنقید کو برا نہیں سمجھتا ۔
اِ س کی ایک مثال آج سامنے آئی۔ آج کل میں اپنی پوتی سعدیہ سے روزانہ انگریزی آرٹکل لکھواتا ہوں۔ وہ لیپ ٹاپ لے کر اس پر ٹائپ کر تی رہتی ہیں۔ آج میں قرآن کی سورہ فصلت کی اِس آیت پر لکھوا رہا تھا:ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَداوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:34)۔ یعنی، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
میں نے سعدیہ کو آرٹکل کا عنوان اِن الفاظ میں بتایا :
Making Friend out of Enemy
سعدیہ نے اِس عنوان سے اختلاف کیا۔ سعدیہ نے کہا کہ یہ مضمون ہم انگریزی پرچے کے لیے لکھ رہے ہیں ۔ enemyایک نیگٹو لفظ ہے او ر انگریزی پرچے والے نیگٹو لفظ کو پسند نہیں کریں گے ۔ میری لڑکی ڈاکٹر فریدہ خانم اُس وقت موجود تھیں ۔ انھوں نے دوسرا عنوان یہ تجویز کیا :
Transforming enmity into Friendship
اِس طرح بحث ہوتی رہی ۔ میرا ذہن مزید سوچتا رہا ، یہاں تک کہ انگریزی شاعر کولریج (Samuel Taylor Coleridge, 1172-1834) کی مشہور نظم کی ایک لائن (water, water everywhere)مجھے یاد آئی اور اس کے مطابق ، یہ عنوان میرے ذہن میں آگیا :
Friends, Friends Everywhere.
اِس آخری عنوان کو سب نے فوراً پسند کر لیا۔
