یکم اپریل 1990
میرے اندر سوچنے کی عادت ہے۔ میں اکثر کسی آیت یاکسی حدیث کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں۔ آج نماز کے لیے مسجد جاتے ہوئے یہ بات میرے ذہن میں آئی کہ صف بندی کے لیے حدیث میں جوحکم آیا ہے اس کا مطلب کیا ہے، ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ نماز کی صف میں خوب مل کر کھڑے ہو۔ کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ شیطان صف کے درمیان میں بکری کے بچہ کی طرح داخل ہورہا ہے — إِنِّي لَأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ ( سنن أبي داؤد، حدیث نمبر667)۔
اس حدیث میں خلل کا مطلب مجرد جگہ (space) نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ جب لوگ پاؤں کو پھیلا کر ایک دوسرے سے ملیں گے تو خود ایک آدمی کے دونوں پیروں کے درمیان میں اتنی جگہ ہو جائے گی کہ اس کے اندر سے ’’بکری کا بچہ‘‘ گزرسکے ۔حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں خلل سے مراد دو آدمیوں کے درمیان خلل ہے، نہ کہ دو پیروں کے درمیان خلل۔
اس حدیث میں اصل زور باہم مل کر کھڑے ہونے پر ہے ۔ باہم مل کر کھڑا ہونا اتفاق کی علامت ہے اور منتشرانداز میں کھڑا ہونا اختلاف کی علامت۔ چنانچہ یہی بات دوسری روایت میں ان لفظوں میں ہے:اسْتَوُوا وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 432)۔ یعنی، صفوں میں برابرکھڑے ہو جاؤ اور آگے پیچھےنہ ہو، ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہوجائے گا۔
