10اکتوبر2011
میں نے اپنے ایک ساتھی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص میرے بارے میں تنقید یا اختلاف کرے تو آپ ہرگز اس سےبحث نہ کریں، بلکہ صرف یہ کریں کہ اس کو ہمارے مشن کی کوئی کتاب پڑھنے کے لیے دے دیں۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ جب آپ اس سے بحث کریں گے تو بہت جلد یہ بحث دو آدمیوں کے درمیان انا کا ٹکراؤ(ego clash) بن جائے گا۔ مگر جب آدمی کتاب پڑھتا ہے تو اس وقت کوئی دوسرا شخص اس کے سامنے نہیں ہوتا جس کے ساتھ انا کا ٹکراؤ پیش آئے۔ یہی طریقہ حکمت کے مطابق ہے۔ تنہائی میں جب آدمی کتاب پڑھتا ہے تو وہ اس پوزیشن میں پڑتا ہے کہ وہ معقول ذہن کے تحت کتاب کے مضامین پر غور و فکرکرے اور معتدل ذہن کے تحت اس کے بارے میں رائے قائم کرے۔
