26اپریل1995
بعد کے زمانہ میں جو فقہ مرتب ہوئی اس میں ایک عجیب و غریب برائی یہ داخل ہوگئی کہ خوضی مثالیں وضع کرکے اس کی بنیاد پر احکام بتائے جانے لگے۔ مثلاً کسی زرخیز دماغ نے یہ سوال کیا کہ اگر کوئی شخص یہ قسم کھائے کہ ہر وہ عورت جس سے میں نکاح کروں تو اس کو طلاق ہے ( قَالَ كُلُّ امْرَأَةٍ أَتَزَوَّجُهَا فَهِيَ طَالِق ) تو ایسے آدمی کے لیے شرعی مسئلہ کیا ہوگا۔
اب فقہا نے ’’الجواب‘‘ کہہ کر اس کا شرعی مسئلہ بیان کرنا شروع کردیا۔ حنابلہ اور شوافع نے کہا کہ اگر وہ آدمی یہ بیان دے کہ میری مراد صرف فلاں بستی یا فلاں محلہ کی عورتوں سے تھی تو دوسری بستیوں سے نکاح اس کے لیے جائز ہوگا۔ کیوں کہ لفظ عام کی تخصیص نیت کے ذریعہ جائز ہے(الحاوی الکبیر للماوردی، جلد10، صفحہ25؛ مسائل حرب الكرماني، جلد1، صفحہ 382)۔ مگر احناف نے کہا کہ نہیں، اس آدمی کی نیت دیانۃً تسلیم ہوسکتی ہے مگر وہ قضاءََ تسلیم نہیں۔ وہ دنیا کی جس عورت سے بھی نکاح کرے گا، اس پر از خود ایک طلاق واقع ہوجائے گی(البحر الرائق، جلد4، صفحہ18)۔
اس قسم کے فرضی مسائل نے صرف امت کے اختلافات میں اضافہ کیا ہے۔ میں سمجھتاہوں کہ شاید ہی کبھی کسی مرد نے ایسی قسم کھائی ہوگی۔ مگر اس کو فرض کرکے مسائل وضع کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ غیر ضروری بحثیں پیداہوئیں، اور اختلاف واقع ہوگیا۔ صحیح مسلک یہ ہے کہ فرضی سوالات کو ہرگز فتویٰ کا موضوع نہ بنایا جائے، نیز بہت کم مسائل پر فتویٰ دیا جائے۔ بیشتر مسائل کواسْتَفْتِ قَلْبَكَ (مسند احمد، حدیث نمبر 18006) پر چھوڑدیا جائے۔یعنی، اپنے دل سے فتویٰ پوچھو۔
